ابنا: سعودی عربیہ میں وزیر خارجہ نے احتجاجات کے بعد پہلی بار اپنی پریس کانفرنس میں مسائل کے حل کے لئے ڈئیلاگ اور گفتگو کو احسن راستہ کہا ہے ۔سعودالفیصل نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ”ملک میں موجود مسائل کے حل کرنے کا بہترین راستہ گفتگو اور ڈئیلاگ ہے خواہ یہ مشکلات ملک کے مشرقی حصے میں ہوں یا پھر جنوبی و شمالی“دوسری جانب آج گذشتہ دنوں کے عوامی احتجاجات میں گرفتار شدن گان کو چھوڑدیا گیا۔آل سعود کے ولی عہد کی یہ دعوت اس دعوت کے بعد آرہی ہے جسے چند دن قبل انسانی حقوق کے نمایندوں اور سعودی دانشوروں کی جانب سے آنے والے جمعہ کے دن کو سعودی عرب میں یوم قہر قرادیا گیا تھا اور یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جمعے کے دن ملک بھر میں آل سعودکی مطلق العنان حکومت کے خلاف احتجاج ہوگا ۔گذشتہ دنوں میں ایک بڑے عرصے بعد پہلی بار احتجاجات کا دائرہ ملک کے مشرقی حصوں کے محرومیت والے علاقوں سے نکل کر ریاض تک جاپہنچے تھے اور ان احتجاجات نے عمر رسیدہ بادشاہ اور بیمار ولی عہد کو اس قدر خوفزدہ کردیا ہے کہ انہوں نے حکومتی علماءکیمٹی سے ایسے فتوئے کی خواہش کی کہ جس میں ہر قسم کے احتجاجات کو غیر شرعی قراردیا جائے لیکن صورت حال اس وقت مزید خراب ہوئی جب آل سعود کے دربار سے اٹھنے والے فتوﺅں کے جواب میں مصر سے لیکر مراکو تک عالم اسلام کے مفتیان کرام نے ان فتوﺅں کو قرآن اور سنت کے سراسر منافی قرادیا ۔اور حکام ظالم کے خلاف عوامی احتجاجات کو عین شرعی عمل قرادیا اور احتجاجات میں مرنے والوں کو شہید قراردیا۔اس بات سے تو سب واقف ہیں کہ سعودی عرب میں آل سعود اور ابن وھاب کا باہمی معاھدہ ایک دوسرے کو اس بات پر پابند کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی پشتپناہی کرے ۔اس وقت آل سعود کے لئے سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے خطے میں یک بعد دیگر اس کے حامی اقتدار سے ہٹائے جارہے ہیں اور آل سعودکی طاقت میںکمی واقع ہورہی ہے اس پر مزید اضافہ یہ کہ خطے کی عوام میں اسلامی بیداری اور حق خود ارادیت کا شعودر دن بدن بڑھتا جارہا ہے صدیوں سے عرب حکام نے جس قوم کو شکم شہوت اور ناز و نعم کی زندگی میں مصروف رکھا ہوا تھا اب ان میں عقل و شعور آگیا ہے اوردلچسب بات یہ ہے کہ عرب مسلمان اقوام کی یہ عقلانیت و شعور نہ صرف سعودی عربیہ کے گرد دائرہ تنگ کررہی ہے بلکہ اب خود اندر سے بھی آواز آرہی ہے ۔اگرچہ اس وقت بی بی سی ،الجزیرہ،سی این این جیسے بڑے سعودی عرب اور بحرین میں جاری احتجاجات کی کوریج نہیں کررہے اور کہا جاتا ہے کہ سعودی وزیرخارجہ کو اس بات پر بڑا اطمنان ہے کہ یہ چینل سعودی عرب کے احتجاجات کی کوریج نہیں کرینگے ۔اس سلسلے میں القدس اخبار کے چیف ڈاکٹر انطوان باری نے الحوار نامی عربی چینل کے ایک پروگرام میں الجزیرہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ الجزیرہ کا سارا کا سارا فوکس لیبیا پر ہے کیونکہ وہ آل سعوداور بحرینی آل خلیفہ سے پیسے لے چکے ہیں انہوں نے اس عمل کو دنیا صحافت کے لئے ایک بدترین مثال کہا ۔ظاہرہے کہ الجزیرہ اپنی نشریات قطر سے چلاتا ہے اور وہ کسی بھی طور خلیجی ممالک کے حکمرانوں کی مخالفت مول نہیں سکتا کیونکہ قطر حکومت ایسا نہیں چاہتی ،عرب دنیا کے یہ بی بی سی اور سی این این بھی اب ایک پروپگنڈہ مشنری میں تبدیل ہوچکا ہے جس کا کام عرب دنیا میں بیداری کے بجائے حکام کی بلیک میلنگ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110